ابنا: مصر کے صدارتي اليکشن ميں معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کے دست راست عمر سليمان کي جانب سے بطور اميدوار کاغذات نامزدگي جمع کرانے کے بعد انقلابي نوجوانوں اور ديگر انقلابي قوتوں نے خبردار کيا ہے کہ انقلاب مصر کو سبوتاژ کرنے کي خفيہ سازش پر عمل ہورہا ہے۔
مصر کے صدارتي اليکشن ميں عرب ليگ کے سابق سيکريٹري جنرل عمرو موسي، اخوان المسلمين کے ايک سابق عہديدار عبدالمنعم ابوالفتوح، ناصري پارٹي کے رہنما، حمدين الصباحي، سابق وزير اعظم احمد شفيق اور اخوان المسلمين کے اميدوار خيرت شاطر بطور اميدوار حصہ لے رہے ہيں۔اب سابق ڈکٹيٹر حکومت کي باقيات کي کوششوں بالخصوص عمر سليمان کي جانب سے بطور اميدوار حصہ لينے کے اعلان سے انقلابي قوتوں کو يہ تشويش لاحق ہوگئي ہے کہ سابق ڈکٹيٹر حکومت کو زندہ کرنے کي کوشش کي جارہي ہے۔
اخوان المسلمين کے صدارتي اميدوار خيرت شاطر نے مصر کي انٹيليجنس کے سابق سربراہ عمر سليمان کي جانب سے صدارتي اليکشن ميں بطور اميدوار حصہ لينے کو انقلاب کي توہين قرار ديا ہے - انہوں نے کہا کہ صدارتي اليکشن کے لئے عمر سليمان کي جانب سے کاغذات نامزدگي جمع کرانا انقلاب کي توہين ہے اور ملک ميں ايک اور انقلاب کا باعث ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ مصر کے معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک نے اپني حکومت کے آخري دنوں ميں عمر سليمان کو اپنا نائب مقرر کيا تھا۔
اخوان المسلمين کے ايک رہنما محمد سعد عليوہ نے کہا ہے کہ عمر سليمان کے صدارتي اميدوار بننے سے حسني مبارک کي ڈکٹيٹر حکومت کو باقي رکھنے کي سازش آشکارا ہوگئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر سليمان عوام کے خلاف سابق ڈکٹيٹر حکومت کے تمام مظالم ميں شريک رہے ہيں -مصر کي الوفد پارٹي کے نائب صدر احمد عزالعرب نے بھي کہا ہے کہ عمر سليمان سابق استبدادي حکومت کو باقي رکھنے کي کوشش کررہے ہيں، جس نے ملک کے علاقائي کردار، اور اس کے تمام توانائيوں اور وسائل کو برباد کرديا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر سليمان مبارک حکومت کے تمام جرائم کے ذمہ دار ہيں۔ انہوں نے کہا کہ يہ عمر سليمان تھے جنہوں نے صيہوني حکومت کے ہاتھوں مصر کي گيس کي فروخت کے معاہدے کو آخري شکل دي اور فلسطينيوں کے لئے بہت سي مصبتوں کے اسباب فراہم کئے۔
عمر سليمان نے ايسي حالت ميں صدارتي اليکشن کے لئے کاغذات نامزدگي جمع کرائے ہيں کہ ان کے خلاف صيہوني حکومت سے قريبي روابط رکھنے، تل ابيب کا مسلسل سفر کرنے، مالي بدعنواني، صيہوني حکومت کو مصر کي گيس انتہائي سستے داموں بيچنے اور انقلابي تحريک کے دوران مظاہرين کي سرکوبي جيسے سنگين الزامات ہيں۔
عمر سليمان کي جانب سے صدارتي اليکشن ميں بطور اميدوار حصہ لينے کے اعلان کے بعد عوام نے قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر اجتماع کرکے ان کي مخالفت کا اعلان کيا اور کہا کہ عمر سليمان پر اس کے جرائم پر مقدمہ چلنا چاہئے۔
مصر کے عوام عمر سليمان کے صدارتي اميدوار بننے کو جو معزول ڈکٹيٹر کي حکومت کي انٹيليجنس کے سربراہ تھے، انقلاب کو سبوتاژ کرنے اور سابق ڈکٹيٹر حکومت کو دوبارہ برسراقتدار لانے کي کوشش سمجھتے ہيں۔ عمر سليمان نے پہلے اعلان کيا تھا کہ صدارتي اليکشن ميں حصہ نہيں ليں گے ليکن اب انہوں نے بطور اميدوار حصہ لينے کا اعلان کيا ہے اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکمران فوجي کونسل ان کي پشت پر ہے۔.......
/169